حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات کے بارے میں فرمایا کہ اسے نہ سچ کہو نہ جھوٹا، بلکہ یوں کہو کہ "ہم اللہ اور اس کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لائے ہیں"۔ علماء کا کہنا ہے کہ تورات کی وہ باتیں جو قرآن و سنت کے مطابق ہوں انہیں قبول کیا جائے گا، اور جو قرآن و سنت کے خلاف ہوں انہیں رد کر دیا جائے گا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اب تورات کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے اور یہودیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلام قبول کریں۔
جب ہم کہتے ہیں کہ تورات پانچ کتابوں پر مشتمل ہے تو اُن کے نام اردو میں کچھ یوں ہیں: torah holy book in urdu
لفظ عبرانی زبان کے لفظ "Torah" سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی "ہدایت"، "تعلیم" یا "قانون" کے ہیں۔ torah holy book in urdu
اسلام میں تورات پر ایمان لانا ایمان کا ایک لازمی حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تورات کا ذکر انتہائی احترام کے ساتھ کیا ہے۔ torah holy book in urdu
"بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا۔"
یہودی روایات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ سینا پر نازل کی، جب وہ بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نجات دلانے کے تقریباً 50 دن بعد وہاں پہنچے۔ روایت ہے کہ یہ واقعہ یہودی کیلنڈر کے مطابق 2448 میں پیش آیا۔
جدید دور میں عیسائی اور یہودی اداروں کی جانب سے شائع کردہ اردو بائبل انٹرنیٹ پر پی ڈی ایف (PDF) اور موبائل ایپلی کیشنز کی صورت میں آسانی سے دستیاب ہے۔ اسلام اور توریت: تفہیم اور عقیدہ